آنکھ کی تخلیق ،قدرت الٰہی کا ایک حیرت انگیز شاہکار
SeerahIslamic Thoughtصحتتوحید

آنکھ کی تخلیق ،قدرت الٰہی کا ایک حیرت انگیز شاہکار

S

Sohail Ahmad

Scholar & Educator

📅 October 19, 2026

100%
آنکھ کی تخلیق: قدرتِ الٰہی کا ایک حیرت انگیز شاہکار

8 اکتوبر عالمی یوم بصارت

انسان کی آنکھ بظاہر ایک چھوٹا سا عضو ہے، لیکن اس کی ساخت، حساسیت اور بصری نظام اپنے اندر تخلیقِ الٰہی کی غیر معمولی حکمتوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو اپنی تخلیق پر غور کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:
أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ 
"کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں؟"(البلد: 8)۔
جنین میں آنکھ کی تشکیل حمل کے ابتدائی ہفتوں ہی میں شروع ہوجاتی ہے اور ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل کے ذریعے اس کے مختلف اجزا تشکیل پاتے ہیں۔ جدید علمِ بصارت کے مطابق انسانی شبکیہ میں تقریباً 12 کروڑ Rods اور 60 لاکھ Cones موجود ہوتے ہیں۔ یہ ضوئی مستقبلات روشنی کو عصبی اشارات میں تبدیل کرتے ہیں، جن کے ذریعے بصری معلومات دماغ تک پہنچتی ہیں۔

آنکھ کی حفاظت کے لیے بھی ایک نہایت مربوط نظام موجود ہے: ہڈیوں کا خانہ، بھنویں، پلکیں، مژگان، آنسو اور پلک جھپکنے کا مسلسل عمل۔ آنسو آنکھ کی سطح کو مرطوب رکھتے، اسے صاف کرتے اور قرنیہ کی بصارت کے لیے ضروری ہمواری برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

قرآنِ کریم ظاہری بینائی کے ساتھ ایک دوسری بینائی کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے:
فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ 
"حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔"(الحج: 46)۔

یعنی انسان کے لیے محض آنکھ سے دیکھ لینا کافی نہیں؛ اصل بصیرت یہ ہے کہ وہ اپنے مشاہدے سے حق کو پہچانے اور عبرت حاصل کرے۔
انسانی آنکھ کی حرمت کا اندازہ شریعت اور قانون دونوں سے بھی ہوتا ہے۔ قرآن میں وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ کے ذریعے آنکھ کے بدلے قصاص کا اصول بیان کیا گیا ہے (المائدہ: 45)۔

پاکستانی قانون میں Pakistan Penal Code کی دفعات 333–336 کسی عضو کو تلف کرنے یا اس کی صلاحیت کو مستقل طور پر ختم کرنے پر قصاص، اور قصاص کے قابلِ نفاذ نہ ہونے کی صورت میں ارش کے ساتھ دس سال تک تعزیری قید کی گنجائش رکھتی ہیں۔ دفعہ 337-R کے مطابق آنکھ چونکہ دو اعضا میں سے ایک ہے، اس لیے ایک آنکھ کے تلف ہونے پر ارش نصف دیت اور دونوں کے تلف ہونے پر مکمل دیت کے برابر ہے۔
مالی سال 2026–27 کے لیے وفاقی حکومت نے مکمل دیت 19,352,390 روپے مقرر کی ہے؛ اس حساب سے ایک آنکھ کی نصف دیت یعنی ارش 9,676,195 روپے بنتی ہے۔ یہ جرمانہ نہیں بلکہ متاثرہ شخص کا قانونی مالی حق ہے۔
اور اگر آنکھ یا کسی دوسرے عضو کو تیزاب یا corrosive substance سے نقصان پہنچایا جائے تو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336-B کے تحت سزا عمر قید یا کم از کم 14 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتی ہے۔

یہ تفصیل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آنکھ صرف دیکھنے کا ذریعہ نہیں؛ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور انسانی حرمت کا حصہ ہے۔ اس نعمت کو پہچاننا، اس کی حفاظت کرنا اور اس کے ذریعے حق کو دیکھنا ہی حقیقی بصیرت ہے۔
۔۔
سہیل احمد ضیاء
#بصیرت #بصارت  #یومبصارت #عالمی_یوم_بصارت
#eyecare  #EyeHealth  #WorldSightDay

Reflections & Community Feedback

Share your thoughts, notes, or appreciation with Sohail Ahmad and fellow learners.

Leave a Comment or Rating

(5 of 5 stars)
🛡️ Comments are moderated before publication to maintain respectful scholarly decorum.

Community Reflections (0)

No reflections yet. Be the first to share your notes or feedback!