چھ اکتوبر 1973ء عرب اسرائیل جنگ
SeerahIslamic Thought

چھ اکتوبر 1973ء عرب اسرائیل جنگ

S

Sohail Ahmad

Scholar & Educator

📅 October 19, 2026

100%
6 اکتوبر 1973ء
عرب اسرائیل جنگ
مشرقِ وسطیٰ میں عرب اسرائیل تنازع کوئی نیا قضیہ نہیں۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی جنگیں، سیاسی کشمکش، قبضے اور ناکام سفارتی کوششیں ہیں۔ 1967ء کی جنگ اس سلسلے کا ایک اہم موڑ تھی، جب اسرائیل نے مصر کے جزیرۂ سینا، شام کے گولان اور دیگر عرب علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ جنگ تو ختم ہوگئی مگر تنازع اور مسئلہ اپنی جگہ موجود رہا۔
پھر چھ برس بعد، 6 اکتوبر 1973ء کو مصر اور شام نے مل کر اسرائیل کے خلاف اچانک مشترکہ حملہ کیا۔ اس حملے میں مصر نے نہرِ سویز عبور کرکے سینا کے محاذ پر پیش قدمی کی، جبکہ شام نے گولان کے محاذ پر حملہ کیا۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں عرب افواج نے اہم کامیابیاں حاصل کیں، لیکن اسرائیل نے جلد ہی جوابی کارروائی کی اور جنگ کا پھر رخ بدلنے لگا۔
تقریباً تین ہفتے جاری رہنے والی یہ جنگ صرف عرب ممالک اور اسرائیل تک محدود نہ رہی۔ اس وقت بھی بہادر صاحب امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا تھا، جبکہ اس وقت کی سوویت یونین عرب ممالک کی حمایت کر رہا تھا۔ یوں بہ ظاہر ایک علاقائی جنگ عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بھی بن گئی۔ بالآخر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 338 اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی۔
1973ء کی جنگ نے فلسطین کا مسئلہ تو حل نہیں کیا، تاہم اس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ آنے والے برسوں میں مصر اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات اور امن معاہدہ بھی ہوا ، مگر فلسطینی مسئلہ اپنی بنیادی حیثیت کے ساتھ آج بھی اسی انداز میں موجود ہے۔
نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود فلسطین آج بھی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا سب سے حساس سوال ہے۔ 2026ء میں غزہ شدید انسانی بحران سے گزر رہا ہے، جبکہ مغربی کنارے میں آبادکاری، تشدد، مسماری اور بے دخلی نے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ مزید دشوار کر دی ہے۔ عالمی سطح پر دو ریاستی حل اب بھی زیرِ بحث ہے، جس میں 1967ء سے پہلے کی حدود اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تصور کیا جاتا ہے۔
مصر آج بھی ایک آزاد فلسطینی ریاست اور ظاہری طور پر فلسطینی حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے اور 1967ء کی حدود کے مطابق مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف پر قائم ہے۔ شام کا معاملہ قدرے مختلف ہے؛ فلسطینی مسئلے کے ساتھ اس کی اپنی علاقائی خودمختاری اور مقبوضہ شامی علاقوں کا سوال بھی اس کی موجودہ پالیسی میں اہم ہے، جبکہ دمشق سفارتی راستے کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ دنوں اسرائیل کی جانب سے شامی علاقوں میں کئی بار در اندازی کی جاچکی ہے۔
1973ء سے 2026ء تک بہت کچھ بدل گیا، جنگیں ختم ہوئیں، اتحاد بدلے، سفارتی راستے کھلے اور خطے کی سیاست نے کئی نئے رخ اختیار کیے؛ مگر فلسطین کا سوال کا قضیہ آج بھی وہیں کھڑا ہے۔ غزہ آج بھی تباہی سے دو چار ہے اور آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے مگر عرب ریاستیں خاموشی کے ساتھ آنکھیں بند کر کے سب کچھ دیکھ، رہی ہیں، یہ انتہائی افسوس ناک رویہ ہے ۔
شاید تاریخ کا یہی سب سے اہم سبق ہے کہ جنگ کسی تنازع کو کچھ عرصے کے لیے خاموش تو کر سکتی ہے، مگر جب تک اس کے بنیادی اسباب حل نہ ہوں، امن مستقل نہیں ہوتا۔ اب دیکھتے ہیں کہ غزہ کا مستقبل کیا ہے۔
۔۔
سہیل احمد ضیاء

Reflections & Community Feedback

Share your thoughts, notes, or appreciation with Sohail Ahmad and fellow learners.

Leave a Comment or Rating

(5 of 5 stars)
🛡️ Comments are moderated before publication to maintain respectful scholarly decorum.

Community Reflections (0)

No reflections yet. Be the first to share your notes or feedback!