
SeerahIslamic Thoughtسائنستحقیقاتفلکیات
چاند کا وہ دور والا دوسرا رخ
S
Sohail Ahmad
Scholar & Educator
📅 October 19, 2026
چاند کا وہ دور والا دوسرا رخ
ہم بچپن سے چاند کو آسمان پر دیکھتے آئے ہیں، اور وہ بھی مستقل اس کا ایک ہی رخ، مگر چاند کا ایک پورا نصف کرہ ایسا ہے جو زمین سے براہِ راست کبھی دکھائی نہیں دیتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی وجہ چاند کا ساکن ہونا نہیں، بلکہ اس کی محوری گردش اور زمین کے گرد گردش کا باقاعدہ ہم آہنگ ہونا ہے۔ چاند اپنے محور کے گرد تقریباً 27.3 دن میں ایک گردش مکمل کرتا ہے اور تقریباً اتنے ہی عرصے میں زمین کے گرد بھی ایک چکر پورا کرتا ہے۔ اسی ہم وقت گردش (synchronous rotation) کے باعث زمین سے ہمیں چاند کا تقریباً ہمیشہ ایک ہی رخ دکھائی دیتا ہے۔
انسان نے تاریخ میں پہلی م مرتبہ چاند کے اس دور والے حصے یعنی دوسرے رخ کی تصاویر 1959ء میں سوویت خلائی مشن Luna 3 کے ذریعے حاصل کیں۔ مشن نے 7 اکتوبر 1959ء کو اس حصے کی ابتدائی تصاویر بنائیں اور انہیں زمین پر منتقل کیا۔ یوں انسانی علم میں پہلی بار چاند کے اُس علاقے کا نقشہ سامنے آیا جو اس سے پہلے کبھی براہِ راست مشاہدے میں نہیں آیا تھا۔
یہاں ایک عام غلط فہمی بھی قابلِ توجہ ہے میں چاہتا ہوں وہ بھی دور ہو۔ وہ یہ کہ چاند کے اس حصے کو اکثر “Dark Side of the Moon” کہا جاتا ہے، حالاں کہ سائنسی اعتبار سے یہ تعبیر درست نہیں۔ چاند کا دور والا حصہ بھی سورج کی روشنی حاصل کرتا ہے اور وہاں بھی دن اور رات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسی لیے فلکیات کے ماہرین عموماً اسے “Far Side of the Moon” یعنی چاند کا دور والا حصہ کہتے ہیں۔ یوں 1959ء میں Luna 3 کی بھیجی ہوئی چند ابتدائی تصاویر نے انسان کو یہ دکھایا کہ جس چاند کو ہم صدیوں سے ایک ہی رخ سے دیکھتے آئے تھے، اس کا دوسرا رخ بھی اپنی الگ جغرافیائی ساخت اور خصوصیات رکھتا ہے۔اور میں یہ کہ سکتا ہوں کہ سائنس کی خوبصورتی یہی ہے کہ کبھی ایک معمولی سا آسمانی منظر بھی ہمارے سامنے ایک ایسی حقیقت کھول دیتا ہے جسے انسان صدیوں تک جان ہی نہیں سکا۔
۔۔
سہیل احمد ضیاء
Reflections & Community Feedback
Share your thoughts, notes, or appreciation with Sohail Ahmad and fellow learners.
Leave a Comment or Rating
Community Reflections (0)
No reflections yet. Be the first to share your notes or feedback!