
SeerahIslamic ThoughtتعلیماسکولEducation & Dawah
تعلیمی اداروں کی عمارتیں، معمولی غفلت ناقابل تلافی نقصان
S
Sohail Ahmad
Scholar & Educator
📅 October 18, 2026
تعلیمی اداروں کی عمارتیں ،معمولی غفلت ناقابل تلافی نقصان
یہ غالباً سات، آٹھ سال پہلے کی بات ہے کہ میں ایک پرائیویٹ اسکول خریدنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ کافی تلاش کے بعد ایک علاقے میں ایک ایسے اسکول کے بارے میں معلوم ہوا جس کے مالکان اپنا اسکول، طلبہ اور پورا نظام فروخت کرنا چاہتے تھے۔
میں نے اسکول کا دورہ کیا تو دو چیزیں ایسی نظر آئیں جنہوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ پہلی یہ کہ اسکول کے سامنے کچرے کا ڈھیر تھا اور اس کی جگہ بھی مناسب نہیں تھی۔ دوسری چیز اسکول کی عمارت تھی، جس کی حالت دیکھ کر مجھے تشویش ہوئی۔تقریباً ساڑھے تین سو سے چار سو گز کی زمین پر بنی اس عمارت کی دو منزلیں تھیں۔ پہلی سے چھٹی جماعت تک کی کلاسیں نیچے اور ساتویں سے دسویں جماعت تک کی کلاسیں اوپر ہوتی تھیں۔ عمارت کے پلستر کی خستہ حالی اور مجموعی حالت دیکھ کر میرے ذہن میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں خدانخواستہ مستقبل میں کوئی حادثہ پیش نہ آ جائے اور یہ عمارت بچوں کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔
الحمدللہ، یہ سودا نہیں ہو سکا۔ اگلے ایک سال کے اندر کئی لوگوں نے اسکول کے مالکان کو بھی سمجھایا کہ عمارت کی حالت اسکول چلانے کے لیے مناسب نہیں ہے۔ بالآخر اسکول ختم کر دیا گیا اور عمارت خالی کروا لی گئی۔ شاید اب وہاں کوئی دوسری تعمیر ہو چکی ہے۔ آج پشاور کے ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے نے مجھے ایک بار پھر اپنے اس تجربے کی یاد دلا دی۔ اس حادثے میں معصوم بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی شہادت کی خبر نے دل کو غم زدہ کر دیا۔ یہ سوچ کر ہی دل کانپ اٹھتا ہے کہ جو بچے اپنے والدین کی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے اسکول جاتے ہیں، ان کے لیے وہی جگہ خطرے کا باعث بن جائے جہاں انہیں محفوظ ماحول ملنا چاہیے۔
یہ مسئلہ صرف پشاور یا کسی ایک اسکول تک محدود نہیں ہے۔ روزنامہ ڈان کی 15 اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں کی چھتیں، دیواریں اور عمارتوں کے دیگر حصے گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان حادثات میں بچوں اور اساتذہ کی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
مثال کے طور پر، 2021ء میں جہلم کے ایک اسکول کی دیوار گرنے سے دو طلبہ جاں بحق ہوئے۔ 2023ء میں بنوں کے ایک مدرسے کی چھت گرنے سے تین طلبہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 2024ء میں مظفرگڑھ کے ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے ایک طالب علم جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔ اسی طرح 2026ء میں ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے چار بچے جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بلاشبہ، پرائیویٹ اسکولوں کے مالکان کو اپنی عمارتوں کی دیکھ بھال، مرمت اور حفاظت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ عمارت کی حالت، چھتوں، ستونوں، بنیادوں اور دیگر اہم حصوں کا باقاعدگی سے مستند ماہرین سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔ ہر ایک سے دو سال بعد معائنہ ایک مناسب معمول ہو سکتا ہے، تاہم اگر عمارت میں دراڑیں پڑ رہی ہوں، پلستر گر رہا ہو یا کسی اور قسم کی خرابی نظر آئے تو اگلے معائنے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔
یہ ذمہ داری صرف اسکول مالکان تک محدود نہیں۔ متعلقہ تعلیمی محکموں، مقامی انتظامیہ اور عمارتوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ضروری ہے کہ اسکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کیا جائے، تعمیراتی معیار پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور خطرناک عمارتوں کے بارے میں بروقت اقدامات کیے جائیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ عمارت کی مرمت پر اٹھنے والا خرچ بچوں کی جانوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتا۔ بعض اوقات معمولی سی غفلت ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیتی ہے جس کا دکھ عمر بھر باقی رہتا ہے۔ حادثہ پیش آنے کے بعد افسوس کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اس سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے، پشاور کے اس افسوس ناک حادثے میں شہید ہونے والے معصوم بچوں اور خاتون ٹیچر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اس دکھ اور درد کی گھڑی میں ہماری ہمدردیاں ان تمام خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ ان کے دکھ، کرب اور اذیت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!
۔۔
سہیل احمد ضیاء
www.sohailahmadzia.com
www.nkbacademy.com
#تعلیمی_ادارے #پشاور_سانحہ
#SchoolSafety #SafeSchools #BuildingSafety
Reflections & Community Feedback
Share your thoughts, notes, or appreciation with Sohail Ahmad and fellow learners.
Leave a Comment or Rating
Community Reflections (0)
No reflections yet. Be the first to share your notes or feedback!